مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ مَا لَمْ يُقْبَضْ . باب: اس چیز کو فروخت کرنا جو قبضے میں نہ ہو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ فَيَكُونَ لِصَاحِبِهِ الزِّيَادَةُ وَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَكْتَالَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اناج کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں دو ( طرف سے ) صاع جاری نہیں ہوتے کہ متعلقہ فرد کو اضافی چیز واپس مل جائے اور نقصان ( یا کمی ) اس کے ذمہ ہو ۔ ( علاہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اناج کو ماپنے سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابومسلم جرمی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔