مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيَانِ الْأَجْرِ . باب: معاوضے کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : جُعْتُ مَرَّةً بِالْمَدِينَةِ جُوعًا شَدِيدًا فَخَرَجْتُ أَطْلُبُ الْعَمَلَ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَدْ جَمَعَتْ مَدَرًا فَظَنَنْتُهَا تُرِيدُ بَلَّهُ ، فَقَاطَعْتُهَا كُلَّ ذَنُوبٍ عَلَى تَمْرَةٍ فَمَدَدْتُ سِتَّةَ عَشَرَ ذَنُوبًا حَتَّى مَجَلَتْ يَدَايَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَأَصَبْتُ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا فَقُلْتُ : بِكَفَّيَّ هَكَذَا بَيْنَ يَدَيْهَا - وَبَسَطَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَدَيْهِ وَجَمْعَهُمَا - فَعَدَّتْ لِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكَلَ مَعِي مِنْهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ، میں شدید بھوک کا شکار ہو گیا میں مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں کسی کام کی تلاش میں نکلا تو وہاں ایک عورت موجود تھی جس نے کچھ کچی اینٹیں جمع کی ہوئی تھیں میرا یہ خیال ہے وہ انہیں گیلا کرنا چاہ رہی تھی تو میں نے اس کے ساتھ یہ طے کیا کہ ہر ایک ڈول کے عوض میں ایک کھجور ہو گی میں نے اسے سولہ ڈول نکال کے دیے یہاں تک کہ میرے ہاتھ شل ہو گئے ، پھر میں پانی کے پاس آیا میں نے پانی پیا پھر میں اس عورت کے پاس آیا میں نے کہا: اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہاں اسماعیل بن ابراہیم نامی راوی نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اور انہیں اکٹھا کر کے کہا: ( کہ میرا اتنا معاوضہ بنتا ہے ) تو اس نے مجھے شمار کر کے سولہ کھجوریں دیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی میرے ہمراہ ان کھجوروں میں سے کھایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔