مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَغَيْرِهِ . باب: پچھنے لگانے والے اور دیگر لوگوں کی کمائی کا حکم
حدیث نمبر: 6439
وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ الطُّهَوِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَجَّامِ حِينَ فَرَغَ : " كَمْ خَرَاجُكَ ؟ " . قَالَ : صَاعَانِ . فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا وَأَمَرَنِي فَأَعْطَيْتُهُ صَاعًا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
ابوجمیلہ طہوی بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے حجام سے دریافت کیا : تمہار اخراج کتنا ہے ؟ اس نے جواب دیا دو صاع تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک صاع معاف کر دیا اور آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اسے ایک صاع دے دوں ۔
یہ روایت امام عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔