مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَغَيْرِهِ . باب: پچھنے لگانے والے اور دیگر لوگوں کی کمائی کا حکم
حدیث نمبر: 6437
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا طِيبَةَ فَحَجَمَهُ ، قَالَ : فَسَأَلَهُ : " كَمْ ضَرِيبَتُكَ ؟ " . قَالَ : ثَلَاثَةٌ آصُعٍ . فَوَضَعَ عَنْهُ صَاعًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، وَقِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو بلایا انہوں نے آپ کو پچھنے لگائے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا اخراج کتنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تین صاع ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع معاف کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ
یہ روایت جعفر بن ابووحشیہ کے حوالے سے سلیمان بن قیس سے منقول ہے اور ایک قول کے مطابق جعفر نے ان سے سماع نہیں کیا ہے ۔