حدیث نمبر: 6427
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ ، قَالَ : فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ ، وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ حَامِلٌ فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ : يَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا ؟ إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً وَلَدْتِ غُلَامًا ، فَأَعْطَتْهُ شَاةً ، وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ ، قَالَ : فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ قَالَ رَجُلٌ : أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ ؟ فَأَخْبَرَهُمْ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّزًا ، مُسْتَنْثِلًا ، مُتَقَيِّئًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر پر روانہ ہوئے لوگوں نے مختلف ٹولیوں کی شکل میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ ایک کے ساتھ تھے کچھ لوگ ایک کے ساتھ تھے راوی کہتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں شامل تھا ہمارے ساتھ دیہات کا رہنے والا ایک اعرابی تھا ہم نے دیہات کے ایک گھر میں پڑاؤ کیا ، ان لوگوں کے درمیان ایک حاملہ عورت موجود تھی دیہاتی نے اس سے کہا: کیا تم اس بات کی خواہش مند ہو کہ تم لڑکے کو جنم دو اگر تم مجھے ایک بکری دو گی تو تم لڑکے کو جنم دو گی اس عورت نے اسے بکری دے دی دیہاتی نے مقفع اور مسجع کلام پڑھ کر ( اس پر دم کیا ) راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس نے وہ بکری ذبح کی جب حاضرین اسے کھانے کے لئے بیٹھے تو ایک شخص نے کہا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ بکری کہاں سے آئی ہے ؟ پھر اس نے ان لوگوں کو اس بارے میں بتایا راوی کہتے ہیں : تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قضائے حاجت کے لئے گئے ، پاخانہ کیا ، اور قئے کی ( تاکہ وہ کھایا ہوا اگل دیں ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6427
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (51/3)»