مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يَجُوزُ مِنَ الشُّرُوطِ وَمَا لَا يَجُوزُ . باب: کون سی شرطیں جائز ہیں اور کون سی شرطیں جائز نہیں ہیں ؟
حدیث نمبر: 6394
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ مَرْدُودٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ وَلَهُ إِسْنَادٌ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملے گا “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں جن کی اجازت ، اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ، جو بھی شرط ایسی ہو کہ اس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ مردود شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ ایک روایت کی ایک ” مرسل “ سند بھی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔