مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ أَوِ الشَّرْطِ فِي الْبَيْعِ . باب: ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے یا سودے میں کوئی شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6382
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ . ¤ قَالَ سِمَاكٌ : الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ : هُوَ بِنُسَاء بِكَذَا وَكَذَا . وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی سودے میں دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ۔ سماک نامی راوی کہتے ہیں : ( اس سے مراد یہ ہے ) ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور پھر یہ کہتا ہے ، ادھار کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی اور نقد کی صورت میں یہ اتنے اتنے کی ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔