مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَبَيْعِ الْمُزَايَدَةِ . باب: اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنا اور بیع مزایدہ کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ " . فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ ، وَقَدَحٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ . قَالَ : " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ ؟ " . فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ : " مَنْ يَزِيدُ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ . فَقَالَ : " هُمَا لَكَ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ : دَمٍ مُوجِعٍ ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ ، أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَغَيْرُهُ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ عَنْ رَجُلٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَقَدْ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ سَنَدَهُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے حاجت مند ہونے کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی اور ایک پیالہ لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون اسے خریدے گا ؟ ایک صاحب نے عرض کی : میں ان دونوں کو ایک درہم کے عوض میں خرید لوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ایک درہم سے زیادہ دے گا ؟ تو حاضرین خاموش رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون زیادہ دے گا ؟ تو ایک صاحب بولے : میں دو درہم کے عوض میں ان دونوں کو لے لیتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے ہوئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” مانگنا ، تین میں سے کسی ایک فرد کے لئے حلال ہے ایسا خون جو تکلیف پہنچانے والا ہو ( یعنی قتل کی دیت دینی ہو ) ایسا تاوان جو پریشان کرنے والا ہو اور ایسی غربت جو خاک آلود کر دے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے سیدنا انس صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک شخص سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ترمذی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔