مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَبَيْعِ الْمُزَايَدَةِ . باب: اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنا اور بیع مزایدہ کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : إِلَّا الْغَنَائِمَ وَالْمَوَارِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیع مزایدہ کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” البتہ مال غنیمت اور وراثت کا حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔