مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي التُّجَّارِ وَمَا يَنْبَغِي لَهُمْ مِنَ الشُّرُوطِ فِي بَيْعِهِمْ . باب: تاجروں کا بیان ، ان کے لئے اپنے سودے میں کون سی شرائط رکھنا مناسب ( یعنی جائز ) ہے
- وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فَقَالَ : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ ، وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ " . ¤ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْفُسَّاقُ ؟ قَالَ : " النِّسَاءُ " . قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسُوا أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا ، وَأَزْوَاجَنَا ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ ، وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ " . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْأَدَبِ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ . ¤یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” تم قرآن پڑھو اور اس میں غلو نہ کرو اور اس سے جفا نہ کرو اور اس کا معاوضہ نہ کھاؤ اور اس کے ذریعے ( مال کی ) کثرت کے طلبگار نہ بنو “ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک تاجر لوگ ہی گناہگار ہوں گے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالی نے خرید و فروخت کو حلال قرار نہیں دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہ بات بھی ہے ) جب یہ لوگ بات کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھاتے ہیں تو گناہگار ہوتے ہیں“ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک فاسق لوگ ہی جہنمی ہیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فاسق لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خواتین ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ خواتین ہماری مائیں ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! لیکن جب انہیں کوئی چیز دی جائے تو یہ شکر گزار نہیں ہوتی ہیں اور جب انہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو یہ صبر نہیں کرتی ہیں “ ۔ ان تمام روایات کے رجال ثقہ ہیں ” ادب“ سے متعلق باب میں یہ ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے ، جو اس سے زیادہ طویل روایت ہے ۔