حدیث نمبر: 6300
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا خَيْرَ فِي التِّجَارَةِ إِلَّا لِمَنْ لَمْ يَمْدَحْ بَيْعًا ، وَلَمْ يَذُمَّ مَا اشْتَرَى ، وَكَسَبَ حَلَالًا ، وَأَعْطَاهُ ، وَعَزَلَ فِي ذَلِكَ الْحَلِفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو سودے کی ( غیر ضروری ) تعریف نہیں کرتا اور وہ جو چیز خریدتا ہے اس کی مذمت نہیں کرتا ہے اور وہ حلال کماتا ہے اور حلال ہی دیتا ہے اور اس بارے میں قسم اٹھانے سے الگ رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6300
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف