مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْعُو الشَّبْعَانَ ، وَيَتْرُكُ الْجَيْعَانَ . باب: اس شخص کا بیان ، جو سیر لوگوں کو بلا لیتا ہے اور بھوکوں کو چھوڑ دیتا ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ ؟ مَثَلُ آبَائِكُمُ الَّذِينَ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَثَلُ مَلِكٍ بَنَى قَصْرًا عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَاتَّخَذَ فِيهِ طَعَامًا ، وَوَكَّلَ بِهِ رِجَالًا فَقَالَ : لَا يَمُرُّ أَحَدٌ إِلَّا أَصَابَ مِنْ طَعَامِي هَذَا . وَكَانَ إِذَا مَرَّ الرَّجُلُ فِي شَارَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ذَهَبُوا إِلَيْهِ فَتَعَلَّقُوا بِهِ ، وَجَاءُوا بِهِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ . وَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ وَثِيَابٍ رَثَّةٍ مَنَعُوهُ . فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ ، فَمَرَّ بِجَنَبَاتِهِمْ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ ، فَدَفَعُوهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : إِنِّي جَائِعٌ ، وَإِنَّمَا يُصْنَعُ الطَّعَامُ لِلْجَائِعِ . فَقَالُوا : إِنَّ طَعَامَ الْمَلِكِ لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْأَبْرَارُ . فَدَفَعُوهُ ، فَانْطَلَقَ ، فَجَاءَ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ ، وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ، فَمَرَّ كَأَنَّهُ لَا يُرِيدُهُمْ بَعِيدًا مِنْهُمْ ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ ، فَتَعَلَّقُوا بِهِ ، فَقَالُوا : تَعَالَ ، فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِ الْمَلِكِ قَالَ : لَا أُرِيدُهُ . قَالَ : لَا يَدَعُكَ الْمَلِكُ إِنْ بَلَغَهُ - أَنَّ مِثْلَكَ مَرَّ ، وَلَمْ يُصِبْ مِنْ طَعَامٍ - شَقَّ عَلَيْهِ ، وَخَشِيَنَا أَنْ تُصِيبَنَا مِنْهُ عُقُوبَةٌ . فَأَكْرَهُوهُ ، فَأَدْخَلُوهُ حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى الطَّعَامِ ، فَقَرَّبُوا إِلَيهِ الطَّعَامِ ، فَقَالَ بِثِيَابِهِ هَكَذَا ، فَقَالَ : مَا تَصَنَعُ ؟ فَقَالَ : إِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ سَيِّئَةٍ ، وَثِيَابٍ رَثَّةٍ ، فَأَخْبَرْتُكُمْ أَنِّي جَائِعٌ فَمَنَعْتُمُونِي ، وَإِنِّي جِئْتُكُمْ فِي شَارَةٍ حَسَنَةٍ وَثِيَابٍ حَسَنَةٍ ، فَأَكْرَهْتُمُونِي وَغَلَبْتُمُونِي ، وَأَبَيْتُمْ تَدْعُونِي ، فَقَبَّحَكُمْ ، وَقَبَّحَ مَلِكَكُمْ إِنَّمَا يَصْنَعُ مَلِكُكُمْ هَذَا الطَّعَامَ لِلدُّنْيَا ، وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَلَاقٌ قَالَ : فَارْتَفَعَ الْمَلَكُ ، وَنَزَلَ عَلَيْهِمُ الْعَذَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الْقَافِلَائِيُّ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَا أَرَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا . وَقَالَ النَّسَائِيُّ : مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے ان باپ داداؤں کے حوالے سے فخر کا اظہار نہ کرو جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں کیا میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں تمہارے باپ دادا جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے ہیں ان کی مثال ایک بادشاہ کی مانند ہے ، جس نے راستے میں ایک محل بنوایا اور اس میں کھانے کا انتظام کیا اور کچھ لوگوں کی یہ ذمہ داری لگائی اور یہ کہا: کہ جو بھی شخص گزرے گا وہ میرے اس کھانے میں سے کھا کے جائے گا تو جو بھی شخص عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں وہاں سے گزرتا تھا تو اس کے خادم اس کی طرف جاتے تھے اور اس کے ساتھ متعلق ہو کے اسے ساتھ لے کے آتے تھے یہاں تک کہ کھانا کھاتا تھا اسی دوران ایک شخص آیا جس کی حالت بری تھی اور کپڑے بھی برے تھے ان لوگوں نے اسے نہیں آنے دیا جب یہ بات طول پکڑ گئی تو اللہ تعالی نے ایک فرشتے کو ظاہری طور پر ایک برے حلیے اور برے لباس میں بھیجا وہ وہاں سے گزرا وہ لوگ اٹھ کے اس کی طرف گئے اور اس شخص کو پرے کر دیا اس فرشتے نے کہا: میں بھوکا ہوں اور کھانا بھوکے کے لیے ہی تیار کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا: یہ بادشاہ کا کھانا ہے اسے صرف خوشحال لوگ کھا سکتے ہیں ان لوگوں نے اس فرشتے کو پرے کر دیا پھر وہ چلا گیا پھر وہ عمدہ شکل و صورت اور عمدہ لباس میں آیا اور یوں گزرا کہ جیسے وہ ان کی طرف نہیں آ رہا ذرا دور ہو کے گزرا تو وہ ملازمین اس کی طرف گئے اس کے پاس پہنچے اور کہا: کہ تم آؤ اور بادشاہ کے کھانے میں سے کھاؤ اس نے کہا: میں وہ نہیں لینا چاہتا خادم نے کہا: اگر بادشاہ کو اطلاع مل گئی تو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا کہ تمہارے جیسا آدمی یوں ہی گزر گیا اور اس نے کھانا ہی نہیں کھایا یہ بات بادشاہ پر گراں گزرے گی تو ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ ہمیں بادشاہ کی طرف سے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ان لوگوں نے اس فرشتے کو مجبور کیا اور وہ اس فرشتے کو ساتھ لے کر کھانے کے پاس آ گئے ۔ انہوں نے کھانے کو اس کے آگے رکھا تو فرشتے نے کھانا اپنے کپڑے میں ڈالنا شروع کر دیا ملازم نے دریافت کیا : تم کیا کر رہے ہو ؟ فرشتے نے کہا: میں برے حال اور برے کپڑے میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں بتایا کہ میں بھوکا ہوں تو اس وقت تم نے مجھے کھانے کے لئے نہیں دیا اور جب میں عمدہ حالت اور عمدہ لباس میں تمہارے پاس آیا ہوں تو تم نے میرے ساتھ زبردستی کی اور مجھ پر غالب آ گئے اور تم نے مجھے چھوڑا ہی نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہیں قبیح کرے اور تمہارے بادشاہ کو بھی قبیح کرے تمہارے بادشاہ نے یہ کھانا دنیا کے لئے بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے راوی بیان کرتے ہیں : ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) پھر وہ فرشتہ اوپر چلا گیا اور ان لوگوں پر عذاب نازل ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان قافلائی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کی حدیث میں کوئی حرج نہیں دیکھا ہے امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وہ متروک ہے ۔