حدیث نمبر: 6010
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْخَذْفِ ، فَأَخَذَ ابْنُ عَمٍّ لَهُ فَقَالَ : عَنْ هَذَا وَخَذَفَ . فَقَالَ : أَلَا أُرَانِي أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْهُ ، وَأَنْتَ تَخْذِفُ ؟ وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ عَرَبِيَّةً مَا عِشْتُ أَوْ مَا بَقِينَا أَوْ نَحْوَ هَذَا ، وَفِي رِوَايَةٍ : لَا أُكَلِّمُكَ عَزْمَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری مارنے سے منع کیا ہے ان کے ایک چچا زاد نے ایک کنکری لی اور بولا: اس سے منع کیا ہے ؟ پھر اس نے کنکری مار دی تو سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں نے یہ چیز نہیں دیکھی کہ میں نے تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور تم نے پھر بھی کنکری مار دی ہے اللہ کی قسم جب تک میں زندہ رہوں گا میں تمہارے ساتھ کوئی بات نہیں کروں گا ( یہاں راوی کو شک ہے شاید یہ یہاں لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) ایک روایت میں یہ بات ہے ، یہ بات طے ہے کہ میں تمہارے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ثابت نامی راوی نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع