مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الْأَكْلِ بَعْدَ ثَلَاثٍ . باب: تین دن کے بعد ( قربانی کا گوشت ) کھانے کا جائز ہونا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ نُسُكِنَا فَوْقَ ثَلَاثٍ . قَالَ : فَخَرَجْتُ فِي سَفَرٍ ، ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى أَهْلِي وَذَلِكَ بَعْدَ الْأَضْحَى بِأَيَّامٍ . قَالَ : فَأَتَتْنِي صَاحِبَتِي بِسَلْقٍ قَدْ جَعَلَتْ فِيهِ قَدِيدًا فَقُلْتُ لَهَا : أَنَّى لَكِ هَذَا الْقَدِيدُ ؟ قَالَتْ : مِنْ ضَحَايَانَا . فَقُلْتُ لَهَا : أَلَمْ يَنْهَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَنْ نَأْكُلَهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِلنَّاسِ بَعْدَ ذَلِكَ [ قَالَ : فَلَمْ أُصَدِّقْهَا حَتَّى بَعَثْتُ إِلَى أَخِي قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، وَكَانَ بَدْرِيًا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ فَبَعَثَ إِلَيَّ أَنْ كُلْ طَعَامَكَ ، فَقَدْ صَدَقَتْ ، قَدْ أَرْخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ فِي ذَلِكَ ] . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي الصَّحِيحِ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجْتُهُ لِحَدِيثِ امْرَأَتِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہمیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ ہم تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت کھائیں راوی بیان کرتے ہیں : میں ایک سفر پر چلا گیا پھر میں اپنے گھر واپس آیا تو یہ عیدالاضحی کے کچھ دن گزرنے کے بعد کی بات ہے میری بیوی میرے پاس ایک برتن لے کے آئی جس میں اس نے قدید تیار کیا تھا میں نے اس سے دریافت کیا : یہ قدید تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے اس نے جواب دیا یہ ہماری قربانی کے گوشت کا ہے میں نے اس سے کہا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ ہم تین دن سے زیادہ اس کو کھائیں اس خاتون نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد لوگوں کو اجازت دے دی ہے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کی بات کی تصدیق نہیں کی میں نے اپنے بھائی قتادہ بن نعمان کو پیغام بھیجا وہ بدری صحابی ہیں میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے جوابی پیغام بھیجا کہ تم اپنا کھانا کھا لو اس خاتون نے صحیح بیان کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بارے میں رخصت عطا کر دی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے میں نے اس روایت کو اس لیے نقل کیا ہے کیونکہ یہ روایت ان کی اہلیہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔