حدیث نمبر: 5992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّهِ ، وَجَدَّتِهِ أُمِّ عَطَاءٍ قَالَتَا : وَاللَّهِ لَكَأَنَّنَا نَنْظُرُ إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ حِينَ أَتَانَا عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَقَالَ : أَيَا أُمَّ عَطَاءٍ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] نَهَى الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثٍ . قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي [ أَنْتَ ] وَأُمِّي فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِمَا أُهْدِي لَنَا ؟ فَقَالَ : " أَمَّا مَا أُهْدِيَ لَكُنَّ فَشَأْنُكُنَّ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عطاء بن ابراہیم نے اپنی والدہ اور اپنی نانی ( یا دادی ) ام عطاء کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے وہ دونوں خواتین بیان کرتی ہیں یہ منظر اس وقت بھی ہماری نگاہ میں ہے کہ ہم سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہی تھیں جب وہ اپنے سفید خچر پر سوار ہو کر آئے اور بولے : اے اُم عطاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کے گوشت کو کھائیں میں نے دریافت کیا : میرے ماں باپ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ) قربان ہوں ہمیں جو تحفے کے طور پر جو گوشت دیا جاتا ہے اس کا کیا کریں ؟ تو انہوں نے فرمایا : جو چیز تمہیں تحفے کے طور پر دی جاتی ہے تم اسے استعمال کر سکتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عبداللہ بن عطاء نامی شخص کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأضاحي / حدیث: 5992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (671) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (100/25) اخرجه احمد فى المسند (1422)»