مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو ( عید کی ) نماز سے پہلے ذبح کر دے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَبِي ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُلْ لِأَبِيكَ يُصَلِّي ، ثُمَّ يَذْبَحُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرَيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے والد نے ( عید کی ) نماز ادا کرنے سے پہلے اپنے قربانی کے جانور کو ذبح کر لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنے باپ سے کہو کہ وہ پہلے نماز ادا کرے اور پھر قربانی کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے امام طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔