مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الضَّأْنِ . باب: دُنبے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5951
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْمَنْحَرِ وَرَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَهُوَ يُقَسِّمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ شَيْءٌ ، وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي ثَوْبٍ فَأَعْطَاهُ فَقُسِّمَ عَلَى رِجَالٍ . - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” قربانی کے دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، وہ تھے اور قریش سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحابی تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے تو ان صاحب کو کچھ نہیں ملا اور ان کے ساتھی کو بھی کچھ نہیں ملا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مونڈوا کر بال کپڑے میں رکھوائے اور وہ انہیں دیے تو وہ کچھ لوگوں میں تقسیم کر دیے گئے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔