مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الضَّأْنِ . باب: دُنبے کی فضیلت
حدیث نمبر: 5948
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نُضَحِّي بِمُقَابَلَةٍ ، وَلَا مُدَابَرَةٍ ، وَلَا شَرْقَاءَ ، وَلَا خَرْقَاءَ الْعَيْنِ وَالْأُذُنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ : عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہم مقابلہ اور مدابرہ کو ( یعنی وہ جانور جس کے کان کے پچھلے حصے میں سے معمولی سا کاٹ کر اس کو لٹکنے کے لیے چھوڑ دیں ) اور جس کا کان چیر دیا گیا ہو ، اور جس کے آنکھ یا کان میں گول سوراخ کیا گیا ہو ، اسے ذبح نہیں کرتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔