مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْأَلْوَانِ . باب: ( جانور کے ) کون سے رنگ مستحب ہیں ؟
وَعَنْ كَبِيرَةَ بِنْتِ سُفْيَانَ - ، وَكَانَتْ قَدْ أَدْرَكَتِ الْجَاهِلِيَّةَ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ - قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَأَدْتُ أَرْبَعَ بَنِينَ [ لِي ] فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " اعْتِقِي أَرْبَعَ رَقَبَاتٍ " . قَالَتْ : فَأَعْتَقْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، وَابْنَيْهِ مَيْسَرَةَ ، وَجُبَيْرًا ، وَأُمَّ مُيَسَّرٍ . قَالَتْ : وَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَمُ عَفْرَاءَ أَزْكَى عِنْدَ اللَّهِ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ کبیرہ بنت سفیان رضی اللہ عنہا جنہیں زمانہ جاہلیت بھی نصیب ہوا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام بھی قبول کیا وہ بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے چار بچوں کو زندہ دفن کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم چار غلام آزاد کرو وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نے ابوسعید کو ان کے دو بیٹوں میسرہ اور جبیر کو اور ام میسر کو آزاد کر دیا ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہلکے سفید رنگ کے جانور کا خون ( یعنی قربانی ) اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو سیاہ جانوروں کے خون ( یعنی قربانی ) سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔