مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأُضْحِيَّةِ . باب: قربانی کا بیان
حدیث نمبر: 5941
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْعَتِيرَةِ ، وَكَانَتْ ذَبِيحَةً يَذْبَحُونَهَا فِي رَجَبٍ فَنَهَاهُمْ عَنْهَا وَأَمَرَهُمْ بِالْأُضْحِيَّةِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ النَّهْيُ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَطْ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتیرہ سے منع کیا ہے یہ ایک قربانی ہوتی تھی جسے وہ لوگ رجب کے مہینے میں ذبح کیا کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس سے منع کر دیا اور انہیں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کرنے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں
یہ روایت منقول ہے ، جو صرف عتیرہ کی ممانعت کے بارے میں ہے اس میں اس سیاق کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔