مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
باب باب: ذوالحج کے پہلے عشرے کا بیان
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو - وَنَحْنُ نَطُوفُ بِالْبَيْتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ " . قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا مَنْ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ حَتَّى تُهْرَاقَ مُهْجَةُ دَمِهِ " . قَالَ عِبْدَةُ : هِيَ أَيَّامُ الْعَشْرِ . ¤ابوعبداللہ جو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی ہم اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” کوئی بھی دن ایسے نہیں ہیں جن میں کوئی عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان ایام ( میں عمل کرنے ) سے زیادہ محبوب ہو عرض کی گئی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اپنی جان اور مال کو لے کر نکلتا ہے اور پھر واپس نہیں آتا یہاں تک کہ اس کا خالص خون بہا دیا جاتا ہے ( یعنی وہ جام شہادت نوش کر لیتا ہے “ ۔ عبدہ نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ( ذوالج کے پہلے ) دس دن ہیں ۔