مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَدْخُلُ الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ الْمَدِينَةَ . باب: دجال اور طاعون ، مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے
وَعَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُقَالُ لَهُ : عِيَاضٌ ، وَكَانَتْ ابِنْةُ أُسَامَةَ تَحْتَهُ قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَصَابَهُ الْوَبَاءُ فَأَفْزَعَ النَّاسَ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ [ لَا ] يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابَهَا " - يَعْنِي الْمَدِينَةَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُتَّصِلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے چچازاد ، جن کا نام عیاض تھا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ان کی اہلیہ تھیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا ، جو کسی سرسبز علاقے سے نکلا جب وہ مدینہ منورہ کے قریب راستے میں کسی جگہ پر پہنچا ، تو اسے وباء نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ توقع ہے کہ وہ اس کے راستے سے ہمارے سامنے نہیں آئے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ منورہ ( کا راستہ ) تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اسے ان کے صاحبزادے عبداللہ نے بھی روایت کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔