حدیث نمبر: 5814
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ ، وَهُمْ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا فَلَمْ يَجِدْهُ إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ فَسَاوَمَهُ بِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ : لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ ، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ . زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ ، وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَحَ فَيَأْتِيهِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ فَيُعْجِبُهُمْ رِيعُهُ ، وَرَخَاؤُهُ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبِسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ ، وَمَنْ أَطَاعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَبَعْضُ رُوَاتِهِ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سفیان بن ابوزہیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے عقیق کے مقام پر ان کا گھوڑا تھک گیا وہ ایک جنگی مہم میں شامل تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کی تھی وہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے سواری کے لئے جانور مانگا تو سیدنا سفیان رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نکلے تاکہ ان کے لئے کوئی اونٹ حاصل کریں آپ کو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ عدوی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک اونٹ ملا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اونٹ کی قیمت دریافت کی ، تو سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اونٹ میں آپ کو فروخت نہیں کروں گا آپ اسے لے لیں اور جسے چاہیں سواری کے لئے دے دیں راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ ان سے لے لیا پھر آپ نکلے یہاں تک کہ آپ بئراہاب تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب عمارتیں اس جگہ تک آ جائیں گی اور عنقریب شام فتح ہو گا اس شہر کے رہنے والوں میں سے کچھ لوگ شام جائیں گے وہاں کی خوشحالی اور فراخی انہیں پسند آئے گی ، حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے ، پھر عراق فتح ہو گا کچھ لوگ آئیں گے وہ اپنے اہل خانہ اور اپنے فرمانبردار لوگوں ( یعنی غلام وغیرہ ) کو سوار کریں گے اور لے جائیں گے حالانکہ اگر وہ علم رکھتے ہوں تو مدینہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لئے دعا کی تھی اور میں اللہ تعالٰی سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت رکھ دے اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت رکھ دے جس طرح اس نے اہل مکہ کے لئے برکت رکھی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے بعض راویوں کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5814
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (220/5)»