مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي الدُّعَاءِ لَهَا . باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کے لئے جامع دعا کا بیان
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى بِأَرْضِ سَعْدٍ بِأَصْلِ الْحَرَّةِ عِنْدَ بُيُوتِ الْغَنَائِمِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَكَ وَعَبْدَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ ، نَدْعُوكَ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ ، وَمُدِّهِمْ ، وَثِمَارِهِمْ ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ ، وَاجْعَلْ مَا بِهَا مِنْ وَبَاءٍ بِخُمٍّ ، اللَّهُمَّ إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمْتَ عَلَى لِسَانِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر آپ نے حرہ کی سرزمین پر بکریوں کے گھروں کے پاس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی زمین میں نماز ادا کی پھر آپ نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! بے شک سیدنا ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل ہیں ۔ انہوں نے اہل مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں میں اہل مدینہ کے لئے تجھ سے وہی دعا کرتا ہوں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے مکہ کے لئے کی تھی ہم تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ تو ان لوگوں کے صاع اور ان لوگوں کے مد میں برکت رکھ دے اے اللہ ! مدینہ کو ہمارے لئے محبوب کر دے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارے نزدیک محبوب کیا ہے اور یہاں کی وباء کو ” خم “ کی طرف منتقل کر دے اے اللہ ! میں اس کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبانی حرم کو حرم قرار دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔