مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ أَعْلَامِ حُدُودِهَا . باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کی حدود کے نشانات
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : لَنَا غُنَيْمٌ وَغِلْمَانٌ ، وَنَحْنُ وَهُمْ بِثَرِيرٍ ، وَهُمْ يَخْبِطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ - يَعْنِي الْحُبْلَةَ - قَالَ خَارِجَةُ : وَهِيَ ثَمَرُ السَّمُرِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَا يُخْبَطُ ، وَلَا يُعْضَدُ حِمَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَكِنْ هِشُّوا هَشًّا . ¤ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ : إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيَمْنَعُ أَنْ يُقْطَعَ الْمَسَدُ ، قَالَ خَارِجَةُ : وَالْمَسَدُّ : مِرْوَدُ الْبَكَرَةِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تَتَضَمَّنُ حُرْمَتَهَا ، وَغَيْرَ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا حارث بن رافع بن مکیث جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے پاس کچھ بکریاں ہیں اور کچھ غلام ہیں ہم اور وہ لوگ ثریر میں رہتے ہیں وہ لوگ اپنی بکریوں کو ، عصا درخت پر مار کر یہ پھل ، یعنی حبلہ کھلاتے تھے ، ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد ببول کے درخت کا پھل ہے ، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول کی چراگاہ کے پتے اتارے اور کاٹے نہیں جائیں گے ، البتہ تم ( درخت کو ) ہلا کر ( پتے اتار لو ! ) ۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو کھجور ( کے درخت ) کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع کرتے تھے ۔ خارجہ نامی راوی کہتے ہیں : ” مسد “ سے مراد ، چرخی کا کیل ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) آگے چل کے ایسی احادیث آئیں گی جو اس حرمت کا مفہوم ضمن میں لئے ہوئے ہوں گی اگر اللہ نے چاہا ۔