مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي حُرْمَتِهَا . باب: اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کی حرمت کا بیان
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ فَدَعَا بِسَيْفِهِ فَأَخْرَجَ مِنْ بَطْنِ السَّيْفِ أَدِيمًا عَرَبِيًا فَقَالَ : مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا غَيْرَ كِتَابِ اللَّهِ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَّا ، وَقَدْ بَلَّغْتُهُ غَيْرَ هَذَا ، فَإِذَا فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ : لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار منگوائی اور تلوار کے اندر سے ایک چمڑا نکالا جس پر عربی تحریر تھی ۔ انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں چھوڑی جو بھی نازل ہوا آپ نے اس کی تبلیغ کر دی ہے البتہ یہ چیز ہے ، تو اس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ہر نبی کا ایک حرم ہوتا ہے اور میرا حرم مدینہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔