مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَقْبَرَةِ مَكَّةَ . باب: مکہ کے قبرستان کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا أَشْرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمَقْبَرَةِ ، وَهِيَ عَلَى طَرِيقِهِ الْأُولَى أَشَارَ بِيَدِهِ ، وَرَاءَ الضَّفِيرَةِ - أَوْ قَالَ : وَرَاءَ الضَّفِيرِ - شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ - قَالَ : " نِعْمَ الْمَقْبَرَةُ هَذِهِ " ، فَقُلْتُ لِلَّذِي أَخْبَرَنِي : أَخَصَّ الشِّعْبَ ؟ قَالَ : هَكَذَا . قَالَ : وَلَمْ يُخْبِرْنِي أَنَّهُ خَصَّ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ ، أَشَارَ بِيَدِهِ ، وَرَاءَ الضَّغِيرِ أَوْ قَالَ : الضَّفِيرَةِ ، وَكُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ الْبَيْتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الضَّفِيرَةِ ، أَوْ قَالَ الظَّهِيرَةِ ، فَقَالَ : " نِعْمَ الْمَقْبَرَةُ هَذِهِ " ، فَقُلْتُ لِلَّذِي خَبَّرَنِي : خَصَّ الشِّعْبَ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا كُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَصَّ الشِّعْبَ الْمُقَابِلَ الْبَيْتَ . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي خِدَاشٍ حَدَّثَ عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ كَمَا قَالَ أَبُو حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان کی طرف دیکھا ، تو وہ پہلے والے راستے پر تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” ضفیر “ کے پیچھے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا ( یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں عبدالرزاق نامی راوی کو شک ہے ) آپ نے فرمایا : یہ عمدہ قبرستان یہ ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اس شخص سے دریافت کیا : جس نے مجھے
یہ روایت بیان کی تھی : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کو مخصوص کیا تھا ؟ اور یہ فرمایا تھا : اس طرح ؟ تو انہوں نے فرمایا : میرے استاد نے مجھے صرف یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کسی چیز کو مخصوص کیا تھا ، آپ نے ” صغیر “ کے پیچھے والے حصے کی طرف دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا تھا اور ہم یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھاٹی کو مخصوص کیا تھا ، جو بیت اللہ کے مد مقابل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تا ہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : لفظ ضفیرہ یا ظہیرہ ہے اور آپ نے فرمایا : یہ اچھا قبرستان ہے میں نے ان صاحب سے دریافت کیا : جنہوں نے مجھے
یہ روایت بیان کی تھی کیا آپ نے گھاٹیوں کو مخصوص کیا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا ہم اسی طرح سنتے آ رہے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے مدمقابل گھاٹیوں کو مخصوص کیا تھا ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوخراش ہے ابن جریج اور ابن عیینہ نے اس سے روایت نقل کی ہے جیسا کہ ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے کسی نے بھی اسے ضعیف قرار نہیں دیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔