مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ دُخُولِ الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ میں داخل ہونا
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّ أَهْلِكَ قَدْ دَخَلَ الْبَيْتَ غَيْرِي ؟ فَقَالَ : " أَرْسِلِي إِلَى شَيْبَةَ فَيَفْتَحَ لَكِ الْبَابَ " ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَقَالَ شَيْبَةُ : مَا اسْتَطَعْنَا فَتْحَهُ فِي جَاهِلِيَّةٍ ، وَلَا إِسْلَامٍ بِلَيْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ فِي الْحُجْرَةِ ، فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا عَلَى بِنَاءِ الْبَيْتِ حِينَ بَنَوْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ أَبْسَطَ مِنْهُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے تمام اہل خانہ بیت اللہ میں داخل ہو گئے ہیں صرف میں داخل نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیبہ کو پیغام بھیجو وہ تمہارے لئے دروازہ کھول دے گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیغام بھیجا تو سیدنا شیبہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہم زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی اسلام میں رات کے وقت اسے کھولنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم حطیم میں نماز ادا کر لو کیونکہ تمہاری قوم نے جب اس کو تعیر کیا تھا تو خانہ کعبہ کی تعمیر میں کمی کر دی تھی ( اور حطیم ، خانہ کعبہ کا حصہ ہے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں زیادہ وضاحت کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔