مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ دُخُولِ الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ میں داخل ہونا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَدَخَلَ فِي الْحَجِّ فَلَمَّا نَزَلَ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ - أَوْ رَكْعَتَيْنِ - بَيْنَ الْحَجَرِ ، وَالْبَابِ مُسْتَقْبِلَ الْبَيْتِ ، وَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال خانہ کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے آپ حج کے موقع پر اس کے اندر داخل ہوئے تھے جب آپ اترے تو آپ نے چار رکعت ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو رکعت حجر اسود اور خانہ کعبہ کے دروازے کے درمیان ادا کی تھیں آپ کا رخ بیت اللہ کی طرف تھا آپ نے ارشاد فرمایا : یہ قبلہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔