مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَعْبَةِ . باب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ وَكَانَتْ قَدْرَ مَا يَفْتَحُهُمَا الْعَنَاقُ ، وَكَانَتْ غَيْرَ مَسْقُوفَةٍ ، وَإِنَّمَا تُوضَعُ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ تُسْدَلُ سَدْلًا عَلَيْهَا ، وَكَانَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مَوْضُوعًا عَلَى سُورِهَا تَأَدُّبًا ، وَكَانَتْ ذَاتَ رُكْنَيْنِ كَهَيْأَةِ الْحَلْقَةِ فَأَقْبَلَتْ سَفِينَةٌ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ جَدَّةَ تَكَسَّرَتِ السَّفِينَةُ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ لِيَأْخُذُوا خَشَبَهَا فَوَجَدُوا رُومِيًّا عِنْدَهَا فَأَخَذُ[وا] الْخَشَبَ أَعْطَاهُمْ إِيَّاهُ ، وَكَانَتِ السَّفِينَةُ تُرِيدُ الْحَبَشَةَ ، وَكَانَ الرُّومِيُّ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ نَجَّارًا فَقَدِمُوا ، وَقَدِمُوا بِالرُّومِيِّ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : نَبْنِي بِهَذَا الْخَشَبِ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ بَيْتَ رَبِّنَا . فَلَمَّا أَرَادُوا هَدْمَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ عَلَى سُورِ الْبَيْتِ مِثْلِ قِطْعَةِ الْحَائِرِ سَوْدَاءِ الظَّهْرِ بَيْضَاءِ الْبَطْنِ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا دَنَا أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ لِيَهْدِمَهُ أَوْ لِيَأْخُذَ مِنْ حِجَارَتِهِ سَعَتْ إِلَيْهِ فَاتِحَةً فَاهَا . فَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عِنْدَ الْمَقَامِ فَعَجُّوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالُوا : رَبَّنَا لَمْ نُرَعْ أَرَدْنَا تَشْرِيفَ بَيْتِكَ ، وَتَزْيِينَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَرْضَى بِذَلِكَ فَافْعَلْ مَا بَدَا لَكَ ؟ فَسَمِعُوا خُوَارًا فِي السَّمَاءِ فَإِذَا هُمْ بِطَائِرٍ أَسْوَدِ الظَّهْرِ أَبْيَضِ الْبَطْنِ وَالرِّجْلَيْنِ أَعْظَمَ مِنَ الْبَشَرِ فَغَرَزَ مَخَالِيبَهُ فِي رَأْسِ الْحَيَّةِ حَتَّى انْطَلَقَ بِهَا يَجُرُّ ذَنَبَهَا أَعْظَمَ مِنْ كَذَا وَكَذَا سَاقِطًا ، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أَجْنَادٍ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْنَادَ ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ ، فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ ، وَكَانَ يَرَى بَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، وَبَيْنَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمْسَ سِنِينَ ، وَبَيْنَ مُخْرَجِهِ ، وَبُنْيَانِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ چٹانوں پر بنا ہوا تھا ، اور اتنا اونچا تھا ، کہ بکری کا بچہ اس پر چڑھ سکتا ہے ، اس کی چھت نہیں تھی اس پر کپڑے ڈالے جاتے تھے اور پھر لٹکا دیے جاتے تھے اس کے کونے پر حجر اسود رکھا ہوا تھا اور وہ حلقے کی طرح دو کونوں والا تھا روم کی سرزمین سے ایک کشتی آ رہی تھی جب وہ جدہ کے قریب پہنچی تو وہ کشتی ٹوٹ گئی قریش نکلے تاکہ اس کی لکڑی کو حاصل کر لیں انہیں اس کے پاس ایک رومی شخص ملا قریش نے وہ لکڑی حاصل کی وہ لکڑی اس شخص کو دی وہ کشتی حبشہ کی طرف جا رہی تھی اور کشتی میں موجود رومی شخص بڑھئی تھا جب قریش واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ رومی کو بھی لے آئے قریش نے کہا: ہم اس لکڑی کے ذریعے جو اس کشتی میں تھی اس کے ذریعے اپنے پروردگار کا گھر بنائیں گے جب انہوں نے خانہ کعب کو منہدم کرنے کا ارادہ کیا ، تو خانہ کعبہ کی دیوار پر کمزور چیز کی مانند ایک سانپ موجود تھا جس کی پشت سیاہ تھی اور پیٹ سفید تھا ، جب بھی کوئی شخص منہدم کرنے کے لئے بیت اللہ کے قریب ہونا چاہتا یا اس کے پتھر کو اتارنا چاہتا تو وہ ساپ منہ کھول کر اس کی طرف بڑھ جاتا تھا قریش مقام ابراہیم کے پاس اکٹھے ہوئے ۔ انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کی اور عرض کی اے ہمارے پروردگار ہمارا مقصد صرف تیرے گھر کی عزت کرنا اور اس کی آرائش و زیبائش کرنا ہے اگر تو اس سے راضی ہے ، تو پھر جو تجھے اچھا لگے وہ کر لے پھر انہوں نے آسمان میں ایک آواز سنی تو وہاں ایک سیاہ رنگ کی پشت والا اور سفید پیٹ والا پرندہ موجود تھا جس کے دو پاؤں تھے وہ انسان سے بڑا تھا اس نے اپنے پنجے سانپ کے سر میں گاڑے اور اس کو لے کے چلا گیا اس سانپ کی دم فلاں فلاں چیز سے زیادہ بڑی تھی وہ اجناد کی طرف چلا گیا قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کر دیا اور پھر وادی کے پتھروں کے ذریعے اس کی تعمیر کرنا شروع کی قریش اپنی گردنوں پر وہ پتھر اٹھا کے لاتے تھے ۔ انہوں نے اسے بیس گز بلند کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اجناد سے پتھر اٹھا کے لایا کرتے تھے آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی وہ چادر چھوٹی تھی آپ نے وہ چادر کندھے پر رکھنا چاہی تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپ کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی تو پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی برہنہ نہیں دیکھا گیا خانہ کعبہ کی اس تعمیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے نکلنے اور اس تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا فرق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔