مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَمْرِ مَكَّةَ مِنَ الْأَذَانِ وَالْحِجَابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: مکہ میں اذان ، حجابہ اور دیگر امور کے حوالے سے نگران ہونے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَرِيرٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ لِلْعَبَّاسِ : قُلْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِيكَ الْخِزَانَةَ ، فَسَأَلَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيكُمْ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ذَلِكَ ، مَا تَرْزَؤُكُمْ وَلَا تَرْزَءُونَهَا " ، فَأَعْطَاهُمُ السِّقَايَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ; عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَرِيرٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤عبداللہ بن زریر بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہیں کہ وہ آپ کو خزانہ عطا کر دیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ میں آپ کو وہ چیز دوں گا جو آپ لوگوں کے حق میں اس سے زیادہ بہتر ہو گی ، نہ وہ آپ میں کوئی کمی کرے گی اور نہ آپ اس کو کم سمجھیں گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ” سقایہ “ کا منصب دے دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے
یہ روایت ” مرسل “ ہے عبداللہ بن زریر نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔