حدیث نمبر: 5695
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُحِلَّتْ لِي مَكَّةُ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ، وَهِيَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُخْتَلَى خِلَالُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدِهَا " ، قَالُوا : إِلَّا الْإِذْخِرَ ; فَإِنَّهُ لِقَيْنِنَا وَبُيُوتِنَا ؟ قَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” میرے لئے مکہ کو دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال قرار دیا گیا تھا میرے بعد یہ کسی کے لئے حلال نہیں ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک قابل احترام ہو گا اس کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا اس کے پودے کو اکھیڑا نہیں جائے گا اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا البتہ اعلان کرنے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے لوگوں نے عرض کی : ازخر کا حکم مختلف ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے سنار استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اذخر کا حکم مختلف ہے ( یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5695
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف