مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَكَّةَ وَفَضْلِهَا . باب: مکہ اور اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ لَأَخْرُجُ مِنْكِ ، وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكِ أَحَبُّ بِلَادِ اللَّهِ إِلَيَّ وَأَكْرَمُهُ عَلَى اللَّهِ ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مَا خَرَجْتُ . ¤ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ كُنْتُمْ وُلَاةَ هَذَا الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي فَلَا تَمْنَعُوا طَائِفًا بِبَيْتِ اللَّهِ سَاعَةً مَا شَاءَ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ وَلَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا مَا لَهَا عِنْدَ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَّلَهُمْ وَبَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا " . ¤ رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے تو آپ نے ( مکہ کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں تجھ سے نکل تو رہا ہوں لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ تم میرے نزدیک اللہ کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہو اگر تمہارے رہنے والوں نے مجھے نکلنے پر مجبور نہ کیا ہوتا تو میں نہ نکلتا ( بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) اے بنو عبد مناف اگر تم لوگ میرے بعد اس معاملے کے نگران بنے تو تم بیت اللہ کا طواف کرنے والے کسی بھی شخص کو رات یا دن کے کسی بھی حصے میں منع نہ کرنا اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکشی کا شکار ہو جائیں گے تو میں انہیں یہ بتاتا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا کیا مرتبہ و مقام ہے ( پھر آپ نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! تو نے ان کے پہلے لوگوں کو وبال کا ذائقہ چکھایا تھا تو ان کے بعد والوں کو مہربانی کا ذائقہ چکھا دے ۔ امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ نقل کیا ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔