حدیث نمبر: 5671
وَعَنْ أَبِي طَلِيقٍ أَنَّ امْرَأَتَهُ قَالَتْ لَهُ - وَلَهُ جَمَلٌ وَنَاقَةٌ : أَعْطِنِي جَمَلَكَ أَحُجُّ عَلَيْهِ ، قَالَ : هُوَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَتْ : إِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَنْ أَحُجَّ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : فَأَعْطِنِي النَّاقَةَ ، وَحُجَّ عَلَى جَمَلِكَ ، قَالَ : لَا أُوثِرُ عَلَى نَفْسِي أَحَدًا قَالَتْ : فَأَعْطِنِي مِنْ نَفَقَتِكَ ، قَالَ : مَا عِنْدِي فَضْلٌ عَنْ مَا أَخْرُجُ بِهِ وَأَدَعُ لَكُمْ وَلَوْ كَانَ مَعِي لَأَعْطَيْتُكِ ، قَالَتْ : فَإِذْ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فَأَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّلَامَ إِذَا لَقِيتَهُ وَقُلْ لَهُ الَّذِي قُلْتُ لَكَ ، فَلَمَّا لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْرَأَهُ مِنْهَا السَّلَامَ وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَتْ أُمُّ طَلِيقٍ ; لَوْ أَعْطَيْتَهَا جَمَلَكَ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَوْ أَعْطَيْتَهَا مِنْ نَفَقَتِكَ أَخْلَفَهَا اللَّهُ لَكَ " ، قُلْتُ : فَمَا يَعْدِلُ الْحَجَّ مَعَكَ ؟ قَالَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطلیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کی اہلیہ نے ان صاحب سے کہا: ان کے پاس ایک اونٹ اور ایک اونٹنی ( ان کی اہلیہ نے کہا: ) آپ اپنا اونٹ مجھے دے دیں تاکہ میں اس پر حج کر لوں ۔ انہوں نے جواب دیا وہ اللہ کی راہ کے لئے وقف ہے اس خاتون نے کہا: اگر میں اس پر حج کر لوں گی تو یہ بھی اللہ کی راہ میں ہو گا پھر اس خاتون نے کہا: آپ مجھے اونٹنی دے دیں آپ اپنے اونٹ پر حج کر لیں ان صاحب نے کہا: میں اپنی ذات کے حوالے سے کسی کو ترجیح نہیں دوں گا اس خاتون نے کہا: آپ مجھے اپنا خرچ دے دیں ۔ انہوں نے کہا: میرے پاس اضافی خرچ نہیں ہے صرف وہ ہے ، جس کے ساتھ میں خود روانہ ہو سکتا ہوں ۔ اور تم لوگوں کو چھوڑ جاؤں گا اگر میرے پاس ہوتا تو وہ میں تمہیں دے دیتا اس خاتون نے کہا: آپ نے جو بھی کرنا ہے وہ کریں لیکن جب آپ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیجئے گا اور یہ بات کہہ دیجئے گا جو میں نے آپ سے کہی ہے جب ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خاتون کا سلام پیش کیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا کہ اس خاتون نے ان سے جو کہا: تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ام طلیق نے صحیح کہا: ہے اگر تم اپنا اونٹ اسے دے دو گے تو تمہارا اونٹ اللہ کی ہی راہ میں شمار ہو گا اور اگر تم اپنے خرچ میں سے اسے دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی جگہ مزید عطا کرے گا راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : کون سی چیز حج کے برابر ہو سکتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رمضان میں عمرہ کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1151) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (324/22)»