حدیث نمبر: 5669
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ سَلَامَةَ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ بِالْجِعْرَانَةِ وَأَجْزَرَهُ ، وَظَلَّ عِنْدَهُ وَأَمْسَى عِنْدَهُ خَالِدٌ ، ثُمَّ نَدَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُمْرَةَ ، فَانْحَدَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمُحَرِّشٌ إِلَى الْوَادِي حَتَّى بَلَغَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ : أَشْقَابُ ، فَقَالَ : " يَا مُحَرِّشُ ، مَاءُ هَذَا الْمَكَانِ إِلَى الْكُدَّةِ وَمَاءُ الْكُدَّةِ لِخَالِدٍ ، وَمَا بَقِيَ مِنَ الْوَادِي لَكَ يَا مُحَرِّشُ " ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَصَ الْكُرَّ بِيَدِهِ فَانْبَجَسَ الْمَاءُ فَشَرِبَ ثُمَّ نَدَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعُمْرَةَ فَأَرْسَلَ خَالِدٌ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُ مُحَرِّشُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ خَائِفٌ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ فَسَارَ بِهِ طَرِيقًا يَعْدِلُهُ عَنْ مَنْ يَخَافُ مِنْ ذَلِكَ قَدْ عَرَفَهَا ، حَتَّى قَضَى نُسُكَهُ وَأَصْبَحْنَا عِنْدَ خَالِدٍ رَاجِعِينَ وَأَحَلَّهُ مُحَرِّشٌ - يَعْنِي خَلْقَهُ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خالد بن عبدالعزی بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جعرانہ “ میں ان کے ہاں پڑاؤ کیا اور انہیں ذبح کرنے کے لیے ایک بکری دی ، آپ ان کے ہاں رہے ان کے ہاں شام ہو گئی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالائی علاقے سے نیچے کی طرف تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا محرش رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ دونوں اس جگہ پر پہنچے جس کا نام اشقاب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے محرش اس جگہ سے لے کے کدہ تک جو پانی ہے اور کدہ کا پانی یہ خالد کی ملکیت ہے اور جو نشیبی علاقے کا باقی حصہ ہے : اے محرش وہ تمہارا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے زمین کو کریدا تو اس میں سے پانی نکل آیا آپ نے اسے پیا پھر آپ نے عمرہ کرنے کا رادہ کیا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو پیغام بھیجا جن کا نام محرش بن عبداللہ تھا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے کے حوالے سے پریشان تھے تو وہ آپ کو ساتھ لے کر ایک ایسے راستے سے گزرے تھے جس سے وہ واقف تھے اور وہاں کوئی اندیشہ نہیں تھا یہاں تک کہ آپ نے قربانی مکمل کر لی اور ہم سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے پاس ہی رہے ، واپس آتے ہوئے سیدنا محرش رضی اللہ عنہ نے آپ کو حلال کروایا تھا ، یعنی آپ کے بال مونڈ دیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5669
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4095)»