حدیث نمبر: 5662
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ : مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ . فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَوِ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ لَأَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ ؟ قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنِ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ " . فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ : " لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً " . فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَمَا إِنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ فَكَانَتْ سُنَّةً . قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے دوران مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں : یہ لوگ کمزوری کے باعث اٹھ ہی نہیں سکیں گے آپ کے اصحاب نے عرض کی : اگر ہم اپنی سواری کے جانوروں کو قربان کریں اور ان کا گوشت کھائیں اور ان کا شوربہ پی لیں ، تو اگلے دن جب ہم ان لوگوں کے سامنے آئیں گے تو ہمارے جسم چست ہوں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو بلکہ اپنا زادراہ میرے سامنے اکٹھا کرو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے اکٹھا کیا انہوں نے ایک دستر خوان بچھا دیا اور کھانا کھایا اور واپس چلے گئے اور ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے تھیلے کو بھی بھر لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ مکرمہ ) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے قریش حطیم والی طرف بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو اضطباع کے طور پر لپیٹا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ تمہارے اندر کمزوری نہ دیکھیں پھر آپ نے رکن کا استلام کیا پھر آپ داخل ہوئے یہاں تک کہ جب آپ رکن یمانی کے پیچھے چھپ گئے تو آپ عام رفتار سے چل کے گئے قریش نے کہا: یہ چلنے پر راضی نہیں ہیں ۔ یہ تو ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں ایسا کیا ، تو یہ چیز سنت بن گئی ۔ ابوطفیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح