مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ ، قَدْ أَدْخَلَ رِجْلَيْهِ فِي الْغَرْزِ ، وَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ الرِّجْلِ الْأُخْرَى عَلَى مُؤَخَّرِهِ يَتَطَاوَلُ بِذَلِكَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْصِتُوا ; فَإِنَّكُمْ لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ عَامِكُمْ هَذَا " . وَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے دن انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : آپ اپنی اونٹنی جدعاء پر موجود تھے آپ نے اپنے پاؤں رکاب میں رکھے ہوئے تھے اور دو ہاتھوں میں سے ایک آگے والی ٹانگ پر اور دوسرا پیچھے والی ٹانگ پر رکھا ہوا تھا ، تاکہ آپ نمایاں ہو جائیں آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! خاموش ہو جاؤ ہو سکتا ہے تم اس سال کے بعد مجھے نہ دیکھ پاؤ گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔