مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطَبِ فِي الْحَجِّ . باب: حج کے موقع پر خطبہ دینا
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَاتٍ وَيَجِيءُ الْأَعْرَابُ ، فَإِذَا رَأَوْا وَجْهَهُ قَالُوا : هَذَا وَجْهٌ مُبَارَكٌ . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا " قَالَ : فَدُرْتُ . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا " . قَالَ : فَدُرْتُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ، فَذَهَبَ يَبْزُقُ فَقَالَ بِيَدِهِ فَأَخَذَ بِهَا بُزَاقَهُ ، فَمَسَحَ بِهَا نَعْلَهُ ، كَرِهَ أَنْ يُصِيبَ بِهِ أَحَدًا مِمَّنْ حَوْلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا ؟ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا . اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ؟ وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " . قَالَ : وَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ . فَقَالَ : " تَصَدَّقُوا ; فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّكُمْ لَا تَرَوْنِي بَعْدَ يَوْمِي هَذَا " . وَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ أَنْ يُهِلُّوا مِنْهَا ، وَذَاتَ عِرْقٍ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ ، أَوْ قَالَ : لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت منی میں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عرفات میں موجود تھے دیہاتی لوگ آتے تھے جب وہ آپ کا چہرہ دیکھتے تھے تو یہ کہتے تھے کہ یہ مبارک چہرہ ہے راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : میں پھر گھوم کر آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے راوی کہتے ہیں : میں گھوم کر آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہماری مغفرت کر دے راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر آپ تھوکنے لگے تو آپ نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور وہ تھوک اپنے ہاتھ پر ڈالا اور اسے اپنے جوتے کے ذریعے پونچھ لیا آپ نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ آپ کے ارد گرد موجود افراد میں سے کسی کو وہ تھوک لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! یہ کون سا دن ہے اور یہ کون سا مہینہ ہے ؟ تمہاری جانیں تمہارے اموال تمہارے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس دن کی تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرمت ہے : اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ موجود فرد غیر موجود فرد تک تبلیغ کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ صدقہ کرو میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے کہ آج کے دن کے بعد تم مجھے نہ دیکھ پاؤ “ ۔ ( رادی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر کیا کہ وہ وہاں سے احرام باندھیں گے اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو مقرر کیا راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اہل مشرق کے لئے کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جسے امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔