حدیث نمبر: 5627
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَيَّامَ الْأَضْحَى لِلنَّاسِ : " أَلَيْسَ هَذَا الْيَوْمَ الْحَرَامَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنَّ حُرْمَةَ مَا بَيْنَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ ؟ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، وَأُحَدِّثُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ ؟ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ ، وَالْمُؤْمِنُ حَرَامٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ ; لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ بِالْغِيبَةِ يَغْتَابُهُ ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرِقَهُ ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطُمَهُ ، وَدَمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَسْفِكَهُ ، وَمَالُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَظْلِمَهُ ، وَأَذَاهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعًا " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر قربانی کے دنوں میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : کیا یہ حرمت والا دن نہیں ہے لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہاری آپس کی حرمت قیامت کے دن تک اسی طرح رہے گی جس طرح یہ دن قابل احترام ہے میں تمہیں بتاتا ہوں مسلمان کون ہے وہ شخص کہ ( دوسرے ) مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے سلامت رہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں مومن کون ہے یہ وہ شخص ہے کہ لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے اس سے محفوظ رہیں اور میں تمہیں بتاتا ہوں مہاجر کون ہے یہ وہ شخص ہے ، جو برائیوں سے لاتعلق رہے اور مومن دوسرے مومن کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح اس دن کی حرمت ہے اس کا گوشت ( یعنی عزت ) اس کے لئے قابل احترام ہے کہ دو اس کی غیبت کر کے اس کی غیر موجودگی میں وہ گوشت کھا لے اور اس کی عزت اس کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس کو خراب کر دے اور اس کا چہرہ اس کے لئے قابل احترام ہے کہ اس پر تھپڑ مارے اور اس کا خون قابل احترام ہے کہ وہ اسے بہائے اور اس کا مال اس کے لئے قابل احترام ہے کہ وہ اس پر ظلم کرے اور اس کو اذیت دینا اس کے لئے حرام ہے کہ وہ اسے پرے کر دے “ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3444)»