حدیث نمبر: 5621
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلْ تَدْرُونَ فِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ ؟ وَفِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ ؟ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ ؟ " . قَالُوا : فِي يَوْمٍ حَرَامٍ ، وَبَلَدٍ حَرَامٍ ، وَشَهْرٍ حَرَامٍ . قَالَ : " فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ ; كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا ، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا ، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " اسْمَعُوا مِنِّي تَعِيشُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ، أَلَا لَا تَظْلِمُوا ; إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَأْثَرَةٍ وَمَالٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَذِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ يُوضَعُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ أَلَا وَإِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، ثُمَّ قَرَأَ : ( إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ ) أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ ، وَلَكِنَّهُ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ ، فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا ، وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ حَقًّا ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقًّا : أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ ، وَلَا يَأْذَنُنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ ، فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ " - قَالَ حُمَيْدٌ : قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا الْمُبَرِّحُ ؟ قَالَ : الْمُؤَثِّرُ - " ( وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) ، وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَلَا وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنِ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا " . وَبَسَطَ يَدَيْهِ وَقَالَ : " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ " . ثُمَّ قَالَ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ; فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ أَسْعَدُ مِنْ سَامِعٍ " . قَالَ حُمَيْدٌ : قَالَ الْحَسَنُ حِينَ بَلَغَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ : قَدْ وَاللَّهِ بَلَّغُوا أَقْوَامًا كَانُوا أَسْعَدَ بِهِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ ضَرْبَ النِّسَاءِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو حُرَّةَ الرَّقَاشِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوحرہ رقاشی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایام تشریق کے درمیانے دن میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور میں لوگوں کو آپ سے پرے کر رہا تھا آپ نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : اے لوگو ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تم کون سے مہینے میں موجود ہو اور کون سے دن میں موجود ہو اور تم کون سے شہر میں موجود ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : حرمت والے دن میں حرمت والے شہر میں اور حرمت والے مہینے میں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری جانیں تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لئے قابل احترام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں قابل احترام ہے ایسا اس وقت تک رہے گا جب تک تم ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) حاضر نہیں ہو جاتے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم میری بات سن لو تم ( آرام سے ) زندہ رہو گے خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا خبردار تم ظلم نہ کرنا کسی مسلمان شخص کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے خبردار ہر خون ترجیحی سلوک اور مال ، جو زمانہ جاہلیت کے لین دین سے تعلق رکھتا ہے وہ قیامت کے دن تک کے لئے میرے ان قدموں کے نیچے ہے اور وہ پہلا خون جسے معاف کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے ، جو بنو لیث میں دودھ پینے والے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں قتل کر دیا تھا خبردار زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والا ہر سود کالعدم قرار دیا جاتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ سب سے پہلا سود جسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے وہ جناب عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے ( یعنی جو انہوں نے لوگوں سے وصول کرنا تھا ) تمہارے اصل اموال تمہیں مل جائیں گے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے خبردار زمانہ اسی طریقے سے چل رہا ہے جیسے اس دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں جو اللہ تعالی کی کتاب میں اس وقت طے ہوا تھا جس دن اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا تھا ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ مضبوط دین ہے ، تو تم ان مہینوں کے بارے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرنا “ ۔
( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اور خبردار تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے پھرو ، خبردار شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ نمازی لوگ اس کی عبادت کریں لیکن وہ تمہارے درمیان اختلافات پیدا کرے گا اور تم خواتین : کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا کیونکہ وہ تمہارے پاس پابند ہونے کی حیثیت سے ہیں وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی چیز کی مالک نہیں ہیں ان خواتین کا تم پر حق ہے اور تمہارا ان پر حق ہے کہ وہ تمہارے بچھونے پر تمہارے علاوہ کسی اور شخص کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو آنے کی اجازت نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ رکھتے ہو ، تو انہیں نصیحت کرو اور ان کا بستر الگ کر دو اور انہیں اس طرح سے مارو کہ جو نشان نہ لگائے ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : میں نے حسن نامی راوی سے دریافت کیا : لفظ مبرح سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : یعنی جو چیز نشان ڈال دے ۔
( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ان خواتین کو ان کا رزق اور ان کا لباس مناسب طور پر دیا جائے گا “ ۔
( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم لوگوں نے ان خواتین کو اللہ تعالیٰ کی امانت کے حوالے سے حاصل کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے خبردار جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو وہ اس کو اس شخص کو ادا کر دے جس نے اس کو امین بنایا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ارشاد فرمایا : کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : موجود شخص غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ جس تک تبلیغ کی گئی ہو گی وہ بعض اوقات ایسا ہو سکتا ہےکہ وہ براہ راست سننے والے کے مقابلے میں زیادہ سعادت مند ہو ۔
حمید نامی راوی کہتے ہیں : حسن نامی راوی جب اس کلے پر پہنچتے تھے تو یہ کہتے تھے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے ان اقوام تک تبلیغ کی جو اس کے حوالے سے زیادہ سعادت مند تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف خواتین کی پٹائی کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ابوحرہ رقاشی نامی راوی کو امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5621
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1524) اخرجه ابو يعلي فى المسند (1569 ,1570) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3609) اخرجه احمد فى المسند (72/573)»