مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَتَى يَحِلُّ الْمُحْرِمُ . باب: احرام والا شخص کب حلال ہوتا ہے ؟
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ - الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ - ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَحَرَ هَدْيًا ، ثُمَّ حَلَقَ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ أَثَرٌ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ ، وَفِيهِ إِلَّا النِّسَاءَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عقبہ کے پاس موجود جمرہ کو سات کنکریاں مار لے اور پھر واپس آ جائے اور قربانی کے جانور کو ذبح کر لے پھر وہ سر مونڈوا دے تو حج کے حوالے سے جو چیز اس پر حرام تھی وہ اس کے لئے حلال ہو جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک اثر منقول ہے ، جو ان پر موقوف ہے اور اس میں یہ مذکور ہے ، البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔