حدیث نمبر: 5589
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ الْجِمَارُ الَّتِي تُرْمَى كُلَّ سَنَةٍ ، فَنَحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقُصُ ؟ فَقَالَ : " مَا يُقْبَلُ مِنْهَا رُفِعَ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ رَأَيْتُمُوهَا مِثْلَ الْجِبَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ التَّمِيمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جمرات کا کیا معاملہ ہے انہیں ہر سال کنکریاں ماری جاتی ہیں تو ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ کم ہو جاتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے جو مقبول ہوتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو تم پہاڑوں جتنی کنکریاں دیکھتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان تمیمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5589
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1771)»