مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ . باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانہ ہونا
وَعَنْ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَجَّ مَعَهُ حَتَّى وَقَفَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ لَهُ : يَا مَيْسَرَةُ اسْنِدْ فِي الْجَبَلِ . قَالَ : فَفَعَلْتُ . فَلَمَّا أَفَاضَ النَّاسُ ذَهَبْتُ لِأَدْفَعَ نَاقَتِي فَقَالَ لِي : مَهْ عَنَقًا بَيْنَ الْعَنَقَيْنِ . فَلَمَّا قَطَعْتُ الْجَبَلَ قُلْتُ : انْزِلْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : سيْرًا يَا مَيْسَرَةُ . فَلَمَّا دَفَعْنَا إِلَى جَمْعٍ قَامَ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَشْعَرِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ حَتَّى تُعَمَّمَ الشَّمْسُ فِي الْجِبَالِ ، فَيصِيرُ فِي رُءُوسِهَا كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُفِيضُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى يَقُولُونَ : أَشْرَقَ ثُبَيْرٌ . فَلَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَصِيرَ الشَّمْسُ فِي رُءُوسِ الْجِبَالِ كَعَمَائِمِ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفِيضُ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤میسرہ اشجعی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حج کیا یہاں تک کہ انہوں نے عرفات میں وقوف کیا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میسرہ ! پہاڑ کے ساتھ ٹیک لگا لو میں نے ایسا ہی کیا جب لوگ روانہ ہوئے تو میں بھی اپنی سواری کو روانہ کرنے لگا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ درمیانی رفتار سے چلو جب میں نے پہاڑ پار کر لیا تو میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن آپ اتر جائیں ۔ انہوں نے کہا: اے میسرہ چلتے رہو جب ہم روانہ ہوئے اور مزدلفہ آ گئے تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے نماز کے لئے اقامت کہی اور مغرب کی نماز ادا کی پھر انہوں نے اقامت کہی اور عشاء کی نماز ادا کی پھر جب صبح ہوئی تو انہوں نے اسی طرح کیا جس طرح پہلے مشعر میں کیا تھا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی مشرکین عرفات سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ کی چوٹی پر نہیں آ جاتا تھا اور وہ پہاڑ کے سرے پر یوں ہوتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک یہ غروب نہیں ہو جاتا تھا اور مشرکین مزدلفہ سے اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک وہ یہ نہیں کہ دیتے تھے کہ ثبیر نامی پہاڑ روشن ہو گیا ہے وہ لوگ اس وقت تک روانہ نہیں ہوتے تھے جب تک سورج پہاڑ پر یوں نہیں ہو جاتا تھا جس طرح مردوں کے چہروں پر ان کے عمامے ہوتے ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے تھے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔