مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ . باب: سعی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - يَأْتِي فِي رَمْيِ الْجِمَارِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ - ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابوطفیل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ چیز سنت ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کہا: ہے جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو مناسک کا حکم دیا گیا تو سعی والی جگہ پر شیطان ان کے سامنے آیا اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑ لگانے کی کوشش کی ، تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے سبقت لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر جمرات کو کنکریاں مارنے سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔