مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْقَاتِ الطَّوَافِ . باب: طواف کے اوقات کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَوَافَانِ يُغْفَرُ لِصَاحِبِهِمَا ذُنُوبُهُ بَالِغَةً مَا بَلَغَتْ : طَوَافٌ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ يَكُونُ فَرَاغُهُ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، وَطَوَافٌ بَعْدَ الْعَصْرِ يَكُونُ فَرَاغُهُ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ أَوْ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : " يُلْحَقُ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ زَيْدٍ الْعَمِّيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو طواف ایسے ہیں جنہیں کرنے والے شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے خواہ وہ گناہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں ، صبح کی نماز کے بعد اس طرح طواف کرنا کہ آدمی سورج طلوع ہونے کے وقت اس سے فارغ ہو اور عصر کی نماز کے بعد اس طرح طواف کرنا کہ آدمی سورج غروب ہونے کے وقت اس سے فارغ ہو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر اس سے پہلے ہو یا اس کے بعد ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اس کے ساتھ لاحق ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحیم بن زیدعمی ہے اور وہ متروک ہے ۔