مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ . باب: حجر اسود کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " يَشْهَدُ لِمَنِ اسْتَلَمَهُ بِالْحَقِّ ، وَهُوَ يَمِينُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُصَافِحُ بِهَا خَلْقَهُ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن حجر اسود ، جبل ابوقبیس سے زیادہ بڑا ہو کر آئے گا اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہ ہر اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے حق کے ہمراہ اس کا استلام کیا ہو گا یہ اللہ تعالیٰ کا دست مبارک ہے ، جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔