مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّوَافِ وَالرَّمَلِ وَالِاسْتِلَامِ . باب: طواف کرنا رمل کرنا اور استلام کرنا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ فَعَلْتَ فِي اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ ؟ " . قُلْتُ : كُلُّ ذَلِكَ قَدْ فَعَلْتُ اسْتَلَمْتُ وَتَرَكْتُ . فَقَالَ : " أَصَبْتَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ مُتَّصِلًا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ - أَيْضًا - فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُ الْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَشَيْخُ الْبَزَّارِ فِي الْمَرْفُوعِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْمَاطِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو رکنوں کا استلام کرتے ہوئے تم نے کیا کیا ؟ میں نے جواب دیا میں نے دونوں طرح سے کیا ان کا استلام کیا بھی اور ترک بھی کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں متصل سند کے ساتھ نقل کی ہے اسے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ” مرسل “ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ” مرفوع “ روایت میں امام بزار کے استاد أحمد بن محمد بن سعید انماطی ہیں میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔