مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ وَصِيَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ . باب: اہل علم کے لئے وصیت
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ أَخِي مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : يَا رَبِّ ، أَرِنِي الَّذِي كُنْتَ أَرَيْتَنِي فِي السَّفِينَةِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا مُوسَى ، إِنَّكَ سَتَرَاهُ ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَاهُ الْخِضْرُ فِي طِيبِ رِيحٍ وَحُسْنِ ثِيَابِ " الْبَيَاضِ " ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ ، إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ ، فَقَالَ مُوسَى : هُوَ السَّلَامُ ، وَمِنْهُ السَّلَامُ ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الَّذِي لَا أُحْصِي نِعَمَهُ ، وَلَا أَقْدِرُ عَلَى شُكْرِهِ إِلَّا بِمَعُونَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ مُوسَى : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُوصِيَنِي بِوَصِيَّةٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا بَعْدَكَ . قَالَ الْخِضْرُ : يَا طَالِبَ الْعِلْمِ ، إِنَّ الْقَائِلَ أَقَلُّ مَلَالَةً مِنَ الْمُسْتَمِعِ ، فَلَا تُمِلَّ جُلَسَاءَكَ إِذَا حَدَّثْتَهُمْ ، وَاعْلَمْ أَنَّ قَلْبَكَ وِعَاءٌ ، فَانْظُرْ مَاذَا تَحْشُو بِهِ وِعَاءَكَ ، وَاعْزِفِ الدُّنْيَا وَانْبُذْهَا وَرَاءَكَ ; فَإِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ بِدَارٍ وَلَا لَكَ فِيهَا مَحَلُّ قَرَارٍ ، وَإِنَّهَا جُعِلَتْ بُلْغَةً لِلْعِبَادِ لِيَتَزَوَّدُوا مِنْهَا لِلْمَعَادِ ، وَيَا مُوسَى ، وَطِّنْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَلْقَ الْحِلْمَ ، وَأَشْعِرْ قَلْبَكَ التَّقْوَى تَنَلِ الْعِلْمَ ، وَرُضْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَخْلُصْ مِنَ الْإِثْمِ ، يَا مُوسَى ، تَفَرَّغْ لِلْعِلْمِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُهُ ، فَإِنَّمَا الْعِلْمُ لِمَنْ تَفَرَّغَ لَهُ ، وَلَا تَكُونَنَّ مِكْثَارًا بِالْمَنْطِقِ مِهْذَارًا ; فَإِنَّ كَثْرَةَ الْمَنْطِقِ تَشِينُ الْعُلَمَاءَ ، وَتُبْدِي مَسَاوِئَ السُّخَفَاءِ ، وَلَكِنْ عَلَيْكَ بِذِي اقْتِصَادٍ ; فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ التَّوْفِيقِ وَالسَّدَادِ ، وَأَعْرِضْ عَنِ الْجُهَّالِ ، وَاحْلُمْ عَنِ السُّفَهَاءِ ; فَإِنَّ ذَلِكَ فَضْلُ الْحُكَمَاءِ وَزَيْنُ الْعُلَمَاءِ ، إِذَا شَتَمَكَ الْجَاهِلُ فَاسْكُتْ عَنْهُ سِلْمًا ، وَجَانِبْهُ حَزْمًا ; فَإِنَّ مَا لَقِيَ مِنْ جَهْلِهِ عَلَيْكَ وَشَتْمِهِ إِيَّاكَ أَعْظَمُ وَأَكْثَرُ ، يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، لَا تَفْتَحَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا غَلْقُهُ ، وَلَا تُغْلِقَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا فَتْحُهُ ، يَا ابْنَ عِمْرَانَ مَنْ لَا يَنْتَهِي مِنَ الدُّنْيَا نَهْمَتُهُ ، وَلَا تَنْقَضِي فِيهَا رَغْبَتُهُ ، كَيْفَ يَكُونُ عَابِدًا مَنْ يُحَقِّرُ حَالَهُ وَيَتَّهِمُ اللَّهَ بِمَا قَضَى لَهُ ؟ كَيْفَ يَكُونُ زَاهِدًا ؟ هَلْ يَكُفُّ عَنِ الشَّهَوَاتِ مَنْ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ هَوَاهُ ، وَيَنْفَعُهُ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْجَهْلُ قَدْ حَوَاهُ ؟ لِأَنَّ سَفَرَهُ إِلَى آخِرَتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ ، يَا مُوسَى ، تَعَلَّمْ مَا تَعْلَمُ لِتَعْمَلَ بِهِ ، وَلَا تَعَلَّمْهُ لِتُحَدِّثَ بِهِ ؛ فَيَكُونَ عَلَيْكَ بُورُهُ ، وَيَكُونَ لِغَيْرِكَ نُورُهُ ، يَا ابْنَ عِمْرَانَ ، اجْعَلِ الزُّهْدَ وَالتَّقْوَى لِبَاسَكَ ، وَالْعِلْمَ وَالذِّكْرَ كَلَامَكَ ، وَأَكْثِرْ مِنَ الْحَسَنَاتِ ; فَإِنَّكَ مُصِيبُ السَّيِّئَاتِ ، وَزَعْزِعْ بِالْخَوْفِ قَلْبَكَ ; فَإِنَّ ذَلِكَ يُرْضِي رَبَّكَ ، وَاعْمَلْ خَيْرًا ; فَإِنَّكَ لَابُدَّ عَامِلٌ سِوَاهُ ، قَدْ وَعَظْتُ إِنْ حَفِظْتَ . فَتَوَلَّى الْخِضْرُ وَبَقِيَ مُوسَى حَزِينًا مَكْرُوبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے وہ شخصیت دکھا دے جو تو نے مجھے کشتی میں دکھائی تھی ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے موسیٰ ! تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد سیدنا خضر علیہ السلام ان کے پاس آ گئے ، ان کی خوشبو عمدہ تھی اور سفید خوبصورت لباس تھا ۔ انہوں نے کہا: اے موسیٰ بن عمران ! آپ کو سلام ہو ۔ آپ کا پروردگار آپ کو سلام کہہ رہا ہے ، آپ پر اللہ کی رحمت ہو ، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے ، اسی سے سلامتی حاصل ہوتی ہے اور سلامتی اسی کی طرف لوٹتی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ وہ ایسا ہے کہ میں اس کی نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتا ہوں اور میں اس کی مدد کے بغیر اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا ہوں ، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں ، جس کے ذریعے آپ کے بعد بھی اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے ۔ تو سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : ” اے علم کے طلب گار ! بولنے والا ، سننے والے سے کم اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے ، تو جب تم لوگوں کے ساتھ بات چیت کرو تو اپنے ہم نشینوں کو اکتاہٹ کا شکار نہ کر دینا اور تم یہ بات جان لو کہ تمہارا دل ایک برتن کی طرح ہے ، تو تم اس بات کا جائزہ لینا کہ تم اپنے برتن میں کیا بھر رہے ہو ؟ تم دنیا سے دور ہو جاؤ اور اسے پس پشت ڈال دو کیونکہ وہ تمہارا ٹھکانہ نہیں ہے اور نہ ہی تم نے یہاں مستقل ٹھہرنا ہے ۔ دنیا کو تو بندوں کے لئے عارضی قیام کی جگہ بنایا گیا ہے تاکہ وہ دنیا میں سے آخرت کے لئے زاد سفر حاصل کر لیں ۔ اے موسیٰ ! تم خود کو صبر کا عادی بناؤ ، تمہیں بردباری نصیب ہو گی ، اپنے دل کو پرہیز گاری کا شعور دو ، تم علم تک پہنچ جاؤ گے ، اپنے نفس کو صبر پر راضی کرو ، تم گناہ سے لاتعلق ہو جاؤ گے ، اے موسیٰ علم کے لئے یکسوئی اختیار کرو ، اگر تم اسے حاصل کرنا چاہتے ہو ، کیونکہ علم اس شخص کو ملتا ہے ، جو اس کے لئے یکسوئی اختیار کرتا ہے اور تم بہت زیادہ بات چیت کرنے والے اور فضول گفتگو کرنے والے نہ ہونا ، کیونکہ زیادہ بولنا علماء کے لئے بے عزتی کا باعث ہے اور یہ چیز جاہلوں کی کم فہمی کو نمایاں کر دیتی ہے ، تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ یہ چیز توفیق اور صحیح رہنے کا حصہ ہے ۔ تم جاہلوں سے اعراض کرنا اور بے وقوفوں سے بردباری اختیار کرنا ، کیونکہ یہی چیز دانشوروں کی فضیلت ہے اور اہل علم کی زینت ہے ، اگر کوئی جاہل تمہیں برا کہے تو تم سلامتی کے ساتھ اس کے جواب میں خاموش رہنا اور احتیاط کے ساتھ اس سے لاتعلق ہو جانا ، کیونکہ تمہارے خلاف اس کی جہالت اور اس کا تمہیں برا کہنا اس میں سے جو باقی بچے گا ، وہ زیادہ عظیم اور زیادہ تعداد میں ہو گا ۔ اے عمران کے صاحبزادے ! تم کوئی ایسا دروازہ نہ کھولنا جس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ اسے بند کیسے کرنا ہے ؟ اور تم کوئی ایسا دروازہ بند نہ کرنا جس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ اسے کھولنا کیسے ہے ۔ اے عمران کے صاحبزادے ! جو شخص دنیا سے توجہ ہٹاتا نہیں ہے اور اس کے بارے میں رغبت کو ختم نہیں کرتا ہے ، وہ عبادت گزار کیسے ہو سکتا ہے ۔ وہ شخص جو اپنی حالت کم تر سمجھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو فیصلہ دیا ہے ، اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ پر الزام عائد کرتا ہے ، تو ایسا شخص دنیا سے بے رغبت کیسے ہو سکتا ہے ۔ کیا وہ شخص نفسانی خواہشات کی پیروی سے رک سکتا ہے ، جس کی خواہش نفس اس پر غالب آ چکی ہو اور کیا علم کا حصول ایسے شخص کو نفع دے سکتا ہے ، جسے جہالت نے گھیر لیا ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی کا سفر تو آخرت کی طرف ہے اور وہ دنیا کی طرف متوجہ ہے ۔ اے موسیٰ ! تم علم کو اس لئے حاصل کرو تاکہ تم اس پر عمل کرو ، تم اسے اس لئے حاصل نہ کرو کہ لوگوں کے سامنے اس کو بیان کرو ، ورنہ اس کا بوجھ تم پر ہو گا ، اور اس کا نور تمہاری بجائے دوسرے کو مل جائے گا ، اے عمران کے صاحبزادے ! تم دنیا سے بے رغبتی اور پرہیزگاری کو اپنا لباس بنا لو ۔ علم اور ذکر کو اپنا کلام بنا لو ۔ بہ کثرت نیکیاں کرو ، کیونکہ تم نے برائیوں کا ارتکاب بھی کیا ہے ، اپنے دل کو خوف کے ہمراہ ڈراتے رہو ، کیونکہ یہ چیز تمہارے پروردگار کو راضی کر دے گی اور بھلائی کا عمل کرنا کیونکہ تمہارے لئے اس کے علاوہ کچھ اور کرنے کی گنجائش نہیں ہے ، تمہیں نصیحت کر دی گئی ہے ، اگر تم اس کی حفاظت کرتے ہو ( تو یہ تمہارے ہی حق میں بہتر ہے ) ۔ پھر سیدنا خضر علیہ السلام چلے گئے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام غمگین اور پریشان رہ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقاد ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔