مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّوَافِ وَالرَّمَلِ وَالِاسْتِلَامِ . باب: طواف کرنا رمل کرنا اور استلام کرنا
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا اعْتَمَرَ وَكَانَ فِي الطَّرِيقِ قَالَ : " لَوْ أَنَّا نَظَرْنَا إِلَى بَعِيرٍ سَمِينٍ فَنَحَرْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ حَتَّى يَرَوْا قُوَّتَنَا " . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ بِأَزْوَادِ الْقَوْمِ ، ثُمَّ ادْعُ فِيهَا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُبَارِكُ فِيهَا . فَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَدِمْتُمْ فَارْمُلُوا الثَّلَاثَةَ الْأَشْوَاطَ ( الْأُوَّلَ ) حَتَّى تُرُوا قُوَّتَكُمْ " . وَيَوْمَئِذٍ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَشِّرُوا النَّاسَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا ، تو آپ راستے میں تھے آپ نے ارشاد فرمایا : اگر ہم کسی موٹے تازے اونٹ کو دیکھیں گے تو اسے ذبح کر لیں گے اور اسے کھا لیں گے تاکہ لوگ ہماری قوت کو دیکھ لیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کے پاس موجود زادراہ منگوائیں اور پھر اس کے بارے میں دعا کریں تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ( مکہ ) آؤ تو پہلے تین چکروں میں رمل کرنا تاکہ تم اپنی قوت کو دکھا دو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو یہ خوشخبری دے دو کہ جو شخص «لا اله الا الله» پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔