حدیث نمبر: 5440
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : آذَانِي هَوَامُّ رَأْسِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ : فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكَ فَرَقٌ تُقَسِّمُهُ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ - وَالْفَرَقُ : ثَلَاثَةُ آصُعٍ - أَوْ نُسُكٌ : شَاةٌ أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خِرْ لِي . قَالَ : " أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے سر کی جوئیں مجھے پریشان کر رہی تھیں ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی : ” تم میں سے جو شخص بیمار ہو جائے یا اسے سر میں کوئی تکلیف ہو ، تو اس کا فدیہ روزے کی شکل میں ہو گا ، یا صدقے کی شکل میں ہو گا یا قربانی کی شکل میں ہو گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور ارشاد فرمایا : کیا تمہارے پاس ایک فرق ( یعنی اناج کا مخصوص پیمانہ ) ہے ؟ اسے تم چھ مسکینوں میں تقسیم کر دو راوی کہتے ہیں : فرق تین صاع کا ہوتا ہے ، ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یا پھر قربانی میں ایک بکری قربان کر دو یا تین دن کے روزے رکھ لو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے کسی ایک کو مقرر کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5440
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157/19)»